بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیایوٹیوب پر لیکچر اپلوڈ کر نا جائزہے؟

سوال

کیایوٹیوب پر لیکچر اپلوڈ کر نا جائزہے؟

جواب

یوٹیوب پر لیکچر اپ لوڈ کرناکئی مفاسد کی بناء پر درست نہیں ہے، بلکہ چینل پر  سبسکرائبرز اور  ویورز  کی مخصوص تعداد تک پہنچنے پر یو ٹیوب  انتظامیہ اس چینل پر مختلف قسم کے  اشتہارات چلانے کی مجاز ہوتی ہے ،  اور چینل بنانے والا اس معاہدے کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوتاہے، لہذا اس بنیاد پر یوٹیوب چینل بنانا درست نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية  میں ہے:

" ومنها ‌أن ‌يكون ‌مقدور ‌الاستيفاء - حقيقة أو شرعا فلا يجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي؛ لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا--- ومنها أن تكون المنفعة مقصودة معتادا استيفاؤها بعقد الإجارة ولا يجري بها التعامل بين الناس فلا يجوز استئجار الأشجار لتجفيف الثياب عليها----- ومنها أن تكون الأجرة معلومة. ومنها أن لا تكون الأجرة منفعة هي من جنس المعقود عليه كإجارة السكنى بالسكنى والخدمة بالخدمة. ومنها خلو الركن عن شرط لا يقتضيه العقد ولا يلائمه."

(کتاب الإجارۃ ، الباب الأول تفسير الإجارة، ج:4، ص:411، ط:دار الفكر بيروت) 

فقط واللہ أعلم

مزید دیکھے:

یوٹیوب پر ویڈیو کے ذریعہ پیسے کمانے کا حکم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144604100333
تاریخ07-10-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں