بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیراجازت دوسرے کی چیز استعمال کرنے کا حکم

سوال

اگر کمرےمیں کسی کی کوئی چیز کھانے کی موجود ہو یادیگراستعمال کی کوئی چیز  ہوتو اس کو اجازت کے بغیر استعمال کرنےکا کیا حکم ہے؟

جواب

کسی اور کی چیزاس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں ہے، چاہے وہ کھانے کی ہو یا استعمال کی  ہو، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر دوسرے کی کوئی چیز بغیر اجازت کے استعمال کی ہے تو اصل مالک کو پوری تفصیل بتا کر معاف کرائے یا پھرمالک  کو اس کابدلہ   دےکرراضی کرے، ورنہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دینا پڑے گا۔

فتاوی ٰشامی میں ہے:

"‌لا ‌يجوز ‌لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."

(كتاب الحدود، ج: 4، ص: 61، ط: سعيد)

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."

(‌‌المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ص: 27، ط: دار الجیل)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144604100170
تاریخ06-10-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں