بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی دیوار پر آیت الکرسی لکھوانے کا حکم

سوال

میں مسجد کےسامنے کی دیوار پر  آیت الکرسی لکھوانا چاہتا ہوں، کیا لکھوا سکتا ہوں؟ اس میں کوئی ممانعت تو نہیں؟

جواب

مسجد کی  دیواروں پر قرآنی  آیات لکھنا مناسب نہیں ، اس میں بے ادبی کا احتمال ہے کہ کبھی دیوار اکھڑ جائے یا تعمیر نو کی صورت میں اس کو  گرانا پڑے یا صفائی کرنے والے پاکی ناپاکی کا خیال کئے  بغیر یا وضو کے بغیر اس کی صفائی کریں، اور اگر قبلہ کی طرف والی دیوار میں ایسا ہو تو اس سے نمازیوں کی توجہ بھی اس طرف جائے گی جس سے ان کی نماز متاثر ہوگی، اس لیے  یہ مکروہ ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

 "وليس بمستحسن كتابة القرآن على المحاريب والجدران لما يخاف من سقوط الكتابة وأن توطأ."

(كتاب الصلاة، الباب السابع، الفصل الثاني، ج:1، ص:109، ط:دار الفكر بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولا بأس بنقشه خلا محرابه) فإنه يكره لأنه يلهي المصلي. ويكره التكلف بدقائق النقوش ونحوها خصوصا في جدار القبلة قاله الحلبي. وفي حظر المجتبى: وقيل يكره في المحراب دون السقف والمؤخر انتهى. وظاهره أن المراد بالمحراب جدار القبلة فليحفظ." 

(‌‌‌‌كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ‌‌[فروع]أفضل المساجد، ج:1، ص:658، ط:دار الفكر - بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144604100109
تاریخ05-10-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں