بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جوائنٹ فیملی میں رہتے ہوئے بیوی کا الگ کچن کا مطالبہ کرنے کا حکم

سوال

جوائنٹ فیملی میں اگر بیوی الگ کچن کا مطالبہ کرے تو کیا اس کا مطالبہ درست ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ شرعاً بیوی اپنے لیے گھر میں الگ کمرہ کا مطالبہ کرسکتی ہے،  جس میں رہائش کے علاوہ دیگر ضروریات مثلاً : کچن، بیت الخلاء، غسل خانہ وغیرہ موجود  ہو ؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ بیوی جوائنٹ فیملی میں رہتے ہوئے  الگ کچن کا مطالبہ کرے،تو اس کا مطلب وہ سب کے ساتھ رہنے کے بجائے اپنا رہائش کا نظام الگ کرنا چاہتی ہے ، تو شرعاً اس کا یہ مطالبہ کرنا درست ہے۔

فتاوٰی شامی میں ہے:

"( تجب) على الزوج... وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) ...(بقدر حالهما) كطعام، وكسوة، وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده : لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به."

(باب النفقة، مطلب في مسکن الزوجة،  ج:3، ص:601، ط:دار الفكر۔بيروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144603103318
تاریخ03-10-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں