بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدین حلال کمائی پر قادر نہ ہونےکی صورت میں بیٹوں کی حرام آمدنی کھانے کا حکم

سوال

ماں باپ اگر کسب پر قادر نہیں ہیں اور ان کی اولاد ان کا خرچہ دیتی ہے، لیکن اولاد کی کمائی حرام ہے اور یہ بات والدین کو پتہ ہے ،کیا ان کے لیے اولاد سے خرچہ لینا جائز ہے؟ اگر اولاد نقد روپیہ دے، تو خرچہ کے لیے لے سکتےہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  والدین کسب پر قادر نہیں، تو بیٹوں کو حلال کمائی کی ترغیب دے،تاہم  اگر والدین کے گزر بسر کے لیے اولاد کی حرام کمائی کے علاوہ متبادل کوئی جائز راستہ نہیں ہو تو بقدر گزر بسر ان کے لیے اولاد سے خرچہ لینا جائز ہے، اس سے زائد لینا درست نہیں، اور اگر اولاد نقد رقم روپیہ دے تو وہ بھی خرچہ کے لیے لے سکتے ہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) تجب (على موسر) ولو صغيرا (يسار الفطرة) على الأرجح...(النفقة لأصوله)۔۔۔(الفقراء) ولو قادرين على الكسب"

"(قوله ولو قادرين على الكسب) جزم به في الهداية، فالمعتبر في إيجاب نفقة الوالدين مجرد الفقر"

(کتاب الطلاق، باب النفقة، ج: 3، ص: 621۔623، ط: سعید)

وفيه ايضاً:

"القسم الأول: الفروع فقط: والمعتبر فيهم القرب والجزئية: أي القرب بعد الجزئية دون الميراث كما علمت، ففي ولدين لمسلم فقير ولو أحدهما نصرانيا أو أنثى تجب نفقته عليهما سوية ذخيرة للتساوي في القرب والجزئية وإن اختلفا في الإرث"

(کتاب الطلاق، باب النفقة، ج: 3، ص: 624، ط: سعید)

وفیه ایضاً:

"وفي جامع الجوامع: ‌اشترى ‌الزوج طعاما أو كسوة من مال خبيث جاز للمرأة أكله ولبسها والإثم على الزوج تتارخانية."

(‌‌كتاب الغصب، ج: 6، ص: 191، ط: سعید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144603102996
تاریخ30-09-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں