بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سمیہ نام کا مطلب

سوال

 سمیہ نام کا مطلب کیا ہے؟

جواب

’’سُمَیّہ ‘‘ صحابیات کے ناموں میں سے ہے،اور یہ       "سمو" سے  اسم مصغّر ، بمعنی بلندی ہے، اسی سے  "سماء" بھی ہے؛ کیوں کہ وہ بھی بلند ہے،خلاصہ یہ ہے کہ اس میں بلندی کا معنی موجود ہے۔ لیکن دینی نقطۂ  نظر  سے اُمّت  کی ان نیک ہستیوں کے ناموں کے معنے  کی طرف دھیان دینے کی ضرورت نہیں، اور نہ ہی  معنی کو ایسے ناموں کے انتخاب کی بنیاد بنانا چاہیے ۔

أسد الغابة  في معرفة الصحابه میں ہے:

"‌سمية أم عمار

ب د ع: ‌سمية أم عمار بن ياسر وهي ‌سمية بنت خباط كانت أمة لأبي حذيفة بن المغيرة المخزومي، وكان ياسر حليفا لأبي حذيفة، فزوجه ‌سمية، فولدت له عمارا، فأعتقه أبو حذيفة.

وكانت من السابقين إلى الإسلام، قيل: كانت سابع سبعة في الإسلام."

(ج7، ص152، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144603102969
تاریخ30-09-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں