بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنی بیوی کوپشتومیں دومرتبہ یہ کہناکہ”تہ پہ ماطلاق یی“کاحکم

سوال

گھرمیں بحث مباحثہ کےدوران میں نےاپنی بیوی کوکہا”تہ پہ ماطلاق یی،تہ پہ ماطلاق یی،“یعنی تم مجھ پرطلاق ہو،تم مجھے پرطلاق ہو،یہ کہنےکےبعدمیں گھرسے نکل گیا،اوراس کےبعدتقریباًدس دن بعدہم دونوں (میاں بیوی )نےشرعی تعلقات  قائم کیے۔

سوال یہ ہے کہ کیاہمارانکاح برقرار ہےیانہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب شوہرنےاپنی بیوی کوپشتومیں ان الفظ کےساتھ دومرتبہ طلاق دی کہ ”تہ پہ ماطلاق یی“کہ تم مجھ پرطلاق ہوتواس سے بیوی پردوطلاقیں واقع ہوچکی ہیں،اگران دوطلاقوں سےپہلے یابعدمیں شوہرنےکوئی اورطلاق نہیں دی ہےتومیاں بیوی کےلئے رجوع کرناجائزہے،دوران عدت شوہرنےجورجوع کیاہےیہ رجوع شرعاًدرست اورجائزہے،البتہ رجوع کےبعدآئندہ کےلئے شوہرصرف ایک طلاق کامالک ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية."

(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1، ص:470، ط:دارالفكر)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144603102444
تاریخ25-09-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں