بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالت جنابت میں قرآن کریم کی تلاوت کرنا

سوال

حالت جنابت میں جان بوُجھ کر قرآن مجید پڑھنا کُفر ہے یا بہت سخت گُناہ ہے؟

جواب

جنابت کی حالت میں جب تک غسل نہ کرلیا جائے قرآنِ مجید  کی تلاوت کرنا  (دیکھ کر یا بغیر دیکھے) کفر تو نہیں البتہ جائز نہیں ہے، حرام اور سخت گناہ ہے،قرآنِ مجید کے علاوہ دیگر ذکر و اَذکار اور قرآنِ پاک کی وہ آیات جو دعا کے معنیٰ پر مشتمل ہوں  انہیں دعا یا وِرد کی نیت سے پڑھنا جائز ہے، تاہم اس کے لیے بھی مستحب ہے ان اَذکار سے پہلے وضو کرلیا جائے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"( ومنها) حرمة قراءة القرآن، لاتقرأ الحائض والنفساء والجنب شيئاً من القرآن، والآية وما دونها سواء في التحريم على الأصح، إلا أن لايقصد بما دون الآية القراءة مثل أن يقول: الحمد لله يريد الشكر أو بسم الله عند الأكل أو غيره فإنه لا بأس به."

(کتاب الطهارۃ، الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء، الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة، ج:1 ، ص: 38، ط: دارالفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) يحرم به (تلاوة القرآن)

(قوله: تلاوة القرآن) أي ولو بعد المضمضة كما يأتي.

"(ولا بأس) لحائض وجنب (بقراءة أدعية ومسها وحملها وذكر الله تعالى، وتسبيح)

"(قوله: ولا بأس) يشير إلى أن وضوء الجنب لهذه الأشياء مستحب، كوضوء المحدث."

(کتاب الطهارۃ، ج:1، ص: 172-193، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144603102312
تاریخ23-09-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں