بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت کے آخری دن سورج نکلنے سے پہلے ماں کے گھر جانا شرعاً بے بنیاد بات ہے

سوال

کیا عدت پوری ہونے پر جب لڑکی اپنے ماں کے گھر جائے تو کیا عدت کے آخری دن فجر کے وقت سورج نکلنے سے پہلے جائے؟

جواب

عدت کے ایام جب مکمل ہوگئے تو شرعاً عدت ختم ہوگئی، یعنی عدت کی وجہ سے جو پابندیاں عورت پر لازم تھیں اب وہ پابندیاں نہیں رہیں، لہذا عدت مکمل ہونے کے بعد لڑکی جب چاہے اپنی والدہ کے گھر جاسکتی ہے، عدت کے آخری دن فجر کے وقت سورج نکلنے سے پہلے جانایا عدت پوری ہونے پر لازماً گھر سے نکلنا،اس کی شرعی اعتبار سے کوئی اصل نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"على المبتوتة والمتوفى عنها زوجها إذا كانت بالغة مسلمة الحداد في عدتها."

(کتاب الطلاق، الباب الرابع عشر فی الحداد، ج:1، ص:533، ط:رشيدية)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"إذا طلقت المرأة أو مات عنها زوجها، فإذا ‌انقضت ‌عدتها ‌فلا ‌جناح ‌عليها أن تتزين وتتصنع وتتعرض للتزويج."

(سورة البقرة، ج:1، ص:638، ط:دار طيبة للنشر والتوزيع)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144603102057
تاریخ21-09-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں