بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ اور دو بیٹوں میں ترکہ کی تقسیم

سوال

والد صاحب کا انتقال ہوا ہے، ان کے ورثا میں ایک بیوہ اور دو بیٹے ہیں، والدین مرحوم سے پہلے فوت ہو چکے تھے، والد صاحب کی ملکیت میں ایک مکان تھا، اب اس مکان کی تقسیم کیسے ہوگی؟ کس کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟ راہ نمائی فرمائیے!

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کا ترکہ تقسیم کرنے کا شرعی طریقۂ کار  یہ ہے کہ کل ترکہ سے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ (کفن دفن کے اخراجات) نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرضہ ہو تو وہ ادا کرنے کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد باقی ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کے کل 16 حصے کرکے 2 حصے بیوہ کو اور 7، 7 حصے ہر ایک بیٹے کو ملیں گے۔صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:8/ 16

بیوہ بیٹا بیٹا
1 7
2 7 7

یعنی فی صد کے اعتبار سےکل ترکہ (مکان یا اس کی مالیت) میں سے 12.5 فی صد بیوہ کو اور 43.75 فی صد ہر ایک بیٹے کو ملے گا۔۔۔۔كذا في كتب الفقه والفرائض.

فقط واللہ اَعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144603101826
تاریخ18-09-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں