بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ترکہ کی تقسیم / رد کا مسئلہ

سوال

میری خالہ نے دو شادیاں کی تھیں ،پہلے شوہر سے طلاق ہو گئی تھی ،ان سے دو بیٹے تھے، پھر میری خالہ نے دوسری شادی کی ،ان سے تین بیٹیاں ہیں، میری خالہ کے دوسرے شوہر کا  انتقال ہو گیا ہے، ان کے ترکہ میں ایک ذاتی مکان ہے، اس کی شرعی تقسیم کیسے ہو گی ہر ایک کو کتنے حصے ملیں گے ؟  مرحوم کے ورثا  میں ایک بیوہ اور تین بیٹیاں حیات ہیں ،والدین کا انتقال پہلے ہو چکا ہے۔

وضاحت: مرحوم کے عصبات  میں سے   کوئی  نہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃ مرحوم کا بھائی، بھتیجا، چچا، چچا زاد بھائی کوئی بھی نہیں ہے، تو  مرحوم کا  ترکہ تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  کل مال سے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر مرحوم    پر کسی بھی قسم کا قرضہ ہو تو اس کو ادا کرنے کے بعد اور اگر مرحوم نےکوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو باقی مال کے ایک تہائی ترکہ سے نافذکرنے کے بعد باقی کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کے    4 حصے کئے جائیں ، جس میں سے تین حصے بیوہ کو ، اور7 حصے  ہر ہر بیٹی کو ملیں گے۔

میت: 8  رد24

بیوہ بیٹی بیٹی بیٹی
1 2 2 2
3 7 7 7

یعنی فیصد کے حساب سے 12.5فیصد بیوہ کو،29.16فیصد ہر ہر بیٹی کو ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144603100438
تاریخ10-09-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں