بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کے ساتھ زناء سے آدمی پر بیوی حرام ہوجاتی ہے

سوال

ہمارےوالدنےہماری بڑی بہن کےساتھ زنا کیا، اوراس کےبعدہماری والدہ کوان الفاظ کےساتھ تین طلاق دی"میں تمہیں طلاق دیتاہوں"، اب وہ رجوع کرناچاہتےہیں، کیاحلالہ کےبعدہمارےوالد کاہماری والدہ سےنکاح ہوسکتاہےیابیٹی کےساتھ زنا کی وجہ سےاب حلالہ سےبھی ہماری والدہ ہمارےوالد کےلیےحلال نہیں ہوسکتی؟

جواب

اگرواقعی مذکورہ شخص نےاپنی بیٹی کےساتھ زناکیاتواس کی  بیوی(مذکورہ بیٹی  کی ماں ) اس پر ہمیشہ کےلیےحرام ہوچکی ہے، اب  کسی بھی  صورت  اس شخص کےلیےوہ حلال نہیں ہوسکتی۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا في فتح القدير."

(کتاب النکاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم الثاني المحرمات بالصهرية، 274/1، ط:دار الفکر)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144603100050
تاریخ05-09-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں