بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دل کر رہا ہے کہ تجھے تین الفاظ بول کر تیری امی کے گھر چھوڑ آوں سے طلاق کا حکم

سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو کسی بات پر غصے میں کہا کہ: " دل کر رہا ہے کہ تجھے تین الفاظ بول کر تیری امی کے گھر چھوڑ آؤں "، کیا یہ الفاظ کہنے سے کوئی طلاق واقع تو نہیں ہوئی؟ دل میں وسوسے آ رہے ہیں اس لیے سوال پوچھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃ مذکورہ شخص نے اپنی بیوی کو صرف یہی الفاظ کہے ہیں کہ  " دل کر رہا ہے کہ تجھے تین الفاظ بول کر تیری امی کے گھر چھوڑ آؤں "،تو ان الفاظ سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو قال هويت طلاقك أو أحببت طلاقك أو رضيت طلاقك أو أردت طلاقك لا تطلق وإن نوى هكذا في الخلاصة."

(کتاب الطلاق،الباب الثاني في إيقاع الطلاق،الفصل الأول في الطلاق الصريح،1/ 359،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144602102682
تاریخ03-09-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں