بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خریداروں سے ایک روپیہ زائد لینے کا حکم

سوال

میری موبائل ریچارج کی دکان ہے ،ریچارج تقریباً 299، 249، 349 اس طرح سے ہوتے ہیں ،اکثروبیشتر ہمارے پاس کھلے پیسے نہیں ہوتے ،جس وجہ سے کسٹمر سے 299کے 300، اور 349  کے350 لے لیتے ہیں، اس طرح ایک روپیہ زائد لینے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب کسٹمر کو ریچاج کی مد میں 299، یا 249 روپے مثلاً منتقل کیے جاتے ہیں، تو دکاندار کسٹمر سے اتنی ہی رقم لینے کا حق رکھتا ہے ، اب اگر کسٹمر کا ایک روپیہ بچتا ہے تو دکاندار کو چاہیے کہ وہ ایک روپیہ کسٹمر کو واپس کردے ، اور اگر دکاندار کے پاس کھلے پیسے موجود نہیں ہوتے تو 249 کے بجائے ممکن ہو تو پوری رقم یعنی 250 یا 300 کسٹمر کی طرف منتقل کردینی چاہیے ۔ ایک روپیہ کسٹمر کی اجازت کے بغیر رکھنا جائز نہیں ہے ، البتہ اگر پیسے کھلے نہ ہوں اور کسٹمر کو بتادیا جائے اور وہ اپنی رضامندی اور خوشی سے  چھوڑ دے تو یہ جائز ہے ۔ لیکن کسٹمر کو مجبور نہیں کرسکتا۔نیز یہ بھی ممکن ہے کہ اگر دکاندار کے پاس کھلے پیسے نہ ہو ں تو  جو کسٹمر کی رقم مثلاً ایک روپیہ بنتا ہے اس کے بدلے میں کوئی چیز مثلًا ٹافی وغیرہ خریدار کو دے دے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"‌لا ‌يجوز ‌لأحد ‌من ‌المسلمين ‌أخذ ‌مال أحد بغير سبب شرعي۔"

(كتاب الحدود‌‌، باب التعزير: 4/ 61، ط: سعید) 

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."

(‌‌المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية،ص:27،ط؛دار الجیل)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144602101573
تاریخ24-08-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں