بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیاچارتوکہ سونے میں زکوٰۃ ہے یانہیں؟

سوال

بیٹی آٹھ سال کی تھی کہ والدصاحب نے ان کےلئے چارتولہ سونابنوایاتھا،اب بیٹی انیس سال کی ہوگئی ہے،یہ سونااس کے پاس ہے،اس کےعلاوہ اورکچھ نہیں ہے۔

اب پوچھنایہ ہےکہ کی ااس پرزکوٰۃ ہے یانہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب سونانصاب سے کم ہے ،اوراس کےعلاوہ بیٹی کی ملکیت میں نہ چاندی ہے،اورنہ ہی بنیادی اخراجات کےلئے درکاررقم سے زائدنقدی ہے،اورنہ ہی مال تجارت ہےتونصاب سے کم ہونےکی بناء پرزکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌تجب ‌في ‌كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن مصوغا أو غير مصوغ حليا كان للرجال أو للنساء تبرا كان أو سبيكة كذا في الخلاصة."

(كتاب الزكاة، الباب الثالث في زكاة الذهب والفضة والعروض وفيه فصلان، الفصل الأول في زكاة الذهب والفضة، ج:1، ص:178، ط:دارالفكر)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144602101074
تاریخ18-08-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں