بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بیوہ، آٹھ بیٹوں اور نو بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم

سوال

2022 میں میرے والد صاحب کا انتقال ہوا، مرحوم نے دو شادیاں کی تھیں، پہلی بیوی سے تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، دوسری بیوی سے پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں، دونوں بیویاں اور تمام بچے حیات ہیں۔ 

والد صاحب کے ترکہ میں زرعی زمین، مکانات، ٹریکٹر، ٹرالی، گاڑی اور مال مویشی ہیں، والد صاحب کا مکمل ترکہ اور ساری جائیداد دوسری بیوی کے بڑے بیٹے کے قبضہ میں ہے، سوال یہ ہے کہ مرحوم کا ترکہ ان کے ورثاء میں کیسے تقسیم ہوگا؟

جواب

 صور تِ مسئولہ میں مرحوم کی جائیداد کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ، اگر مرحوم   پر کوئی  قرضہ ہےتو  اس کو کُل ترکہ میں سے ادا کرنے کے بعد،  اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو،تو  اس کو باقی مال کے ایک تہائی  میں سے ادا کرنے  کے بعد، باقی کُل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کے  400 حصوں میں تقسیم  کرکے، 25 حصے ہر ایک بیوہ کو، 28 حصے ہر ایک بیٹے کو اور 14 حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے ۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:400/8

بیوہ بیوہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
1 7
25 25 28 28 28 28 28 28 28 28 14 14 14 14 14 14 14 14 14

فیصد کے اعتبار سے 6.25 فیصد ہر ایک بیوہ کو، سات فیصد ہر ایک بیٹے کو اور 3.5 فیصد ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144602100827
تاریخ15-08-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں