بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سر میں جووؤں کی دوائی لگا کر نماز پڑھنے کا حکم

سوال

اگر سر میں کوئی دوائی لگی ہو  (  جو ئیں مار نے کی دوائی) تو ایسی صورت میں نماز اور وضو ہوجا ئےگا؟

جواب

صور ت ِمسئولہ میں اگر جوئیں مارنے کی دوائی میں کوئی ناپاک چیز  ملی  ہوئی نہ ہو  اور اس سے بالوں پر تہہ نہ بنتا ہو تو ایسی دوائی سر   پرلگی ہو تو اس حالت میں وضوکرنادرست ہے اوراس  وضوسےنمازبھی  درست   ہے ،اور اگر اس سے بالوں پر تہہ بن جاتا ہے اور وہ سر اور بالوں تک پانی پہنچنے کے لیے مانع ہو تو اس کو ہٹانے کے بغیر وضو، غسل درست نہیں ہو گا۔

تکملۃ فتح الملہم میں ہے:

 "فإنها تستعمل في كثير من الأدوية و العطور و المركبات الأخرى، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل إلى حلتها أو طهارتها، و إن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل على مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالى، و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخرى ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبة مع المواد الأخرى، ولايحكم بنجاستها أخذاً بقول أبي حنيفة رحمه الله. و إن معظم الحكول التي تستعمل اليوم في الأودية و العطور و غيرهما لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البيوع." 

(كتاب الأشربة، حكم الكحول المسكرة، ٣/ ٦٠٨، ط: مكتبة دار العلوم)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144602100373
تاریخ11-08-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں