بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سسرال گئی تو میرے نام سے خارج ہوگی کہنے کا حکم

سوال

میں نے اپنی بیوی سے کہا :"مجھ سے لڑ کر سسرال گئی تو میرے نام سے خارج ہوجائے گی، میرے نکاح سے خارج ہوجائے گی"، اس سے میری نیت نکاح کو ختم کرنے کی نہیں تھی،پھر چند دن بعد وہ مجھ سے لڑی تو میں اس کو اس کے گھر چھوڑ آیاہوں ۔ اس سے نکاح میں اثر پڑا ہے؟ہمارا نکاح برقرار ہے یا نہیں ؟اور وہ آنا چاہتی ہے،اس بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃ سائل نے اپنی بیوی  کو طلاق کی نیت کے بغیر یہ کہا تھا کہ :"مجھ سے لڑ کر سسرال گئی تو میرے نام سے خارج ہوجائے گی، نکاح سے خارج ہوجائے گی"،تو اس سے سائل کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح بدستور قائم ہے، سائل کی بیوی سائل کے پاس آ سکتی ہےاس میں کوئی قباحت نہیں ہے، البتہ آئندہ اس طرح کے جملے کہنے سے بچے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وإذا قال لها أبرأتك عن الزوجية يقع الطلاق من غير نية في حالة الغضب وغيره كذا في الذخيرة."

(کتاب الطلاق،الباب الثانی فی ایقاع الطلاق،ج:1،ص:376،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144601102625
تاریخ05-08-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں