بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میں آپ کو فارغ کروں گا ، کہنے کا حکم

سوال

میں بیمارتھا ، ہوش و حواس میں نہیں تھا، تو میں نے اپنی بیوی کو بولا کہ " میں آپ کو فارغ کروں گا " یہ الفاظ میں نے دو دفعہ بولے، اب گھر والےکہہ رہے ہیں کہ آپ کا مسئلہ حل نہیں ہو گا، یعنی ہم دونوں اب ساتھ نہیں رہ سکتے ، آپ مجھے بتا دیں کہ اس کا کیا حکم ہے ؟ کیا ہم ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نےاپنی بیوی کو یہی الفاظ کہے ہیں کہ " میں آپ کو فارغ کروں گا " تویہ محض دھمکی ہے اس  سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح برقرار ہے، سائل اپنا گھر بسا سکتا ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"في المحيط: لو قال بالعربية: أطلق لايكون طلاقًا."

(کتاب الطلاق، 1/ 384 ط : رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144601102411
تاریخ03-08-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں