بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 جُمادى الأولى 1448ھ 31 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی کا طویل عرصہ الگ رہنے کے بعد دوبارہ ساتھ رہنا

سوال

ہمارے  چچازاد بھائی کی شادی کو بہت عرصہ ہو چکا ہے اور اللہ رب العزت نے انہیں ایک بیٹی سے نوازا ،پھر ان کے آپس میں نہ بن پائی،بیوی ان کی  اپنے گھر چلی گئی اور یوں تقریبًا بیس سال گزر گئے،  اس دوران  کوئی طلاق یا خلع کی کوئی بات طرفین کی طرف سے نہیں ہوئی اور اب وہ راضی ہونا چاہتے ہیں اور گھر بسانا چاہتے ہیں، اب شریعت کی روشنی میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگرمذکورہ  شوہر نے طلاق کے صریح یا کنائی (مبہم جس میں طلاق اور طلاق کے علاوہ دونوں معنی ہوں )الفاظ میں سے کوئی لفظ استعمال نہیں کیا تو محض طویل عرصہ تک  ترک تعلق کی وجہ سے نکاح ختم نہیں ہوا ،اگرچہ اس دوران  ازدواجی تعلقات بھی قائم نہ ہوئےہوں،زوجین  کے درمیان نکاح حسب سابق برقرار ہے ،ساتھ رہ سکتے ہیں۔صلح کرلیں ،راضی نامہ کرلیں،گھر بسالیں ،بچی کو ماں باپ کی خوشیاں مل جائیں گی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية...وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البوادي من أمرها بحلق شعرها لا يقع به طلاق وإن نواه."

(كتاب الطلاق، ركن الطلاق، ج:3، ص:231، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144601102196
تاریخ01-08-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں