بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سابقہ سالوں کی زکوٰۃ اندازہ سے دی گئی ہو تو اس کی تلافی کیسے کی جائے؟

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ میں نے پانچ سالوں سے اندازہ سے زکوٰۃ نکالی ہے، اب آئندہ کےلیے اگر میں وہی پانچ سالوں کی زکوٰۃ کی تلافی کرنا چاہوں، تو اس کی کیا ترتیب ہوگی؟ یعنی میں نے اندازہ سے ہر سال ایک لاکھ روپے زکوٰۃ ادا کی ہے۔

جواب

زکوٰۃ مکمل حساب کر کے دینا ضروری ہے، اندازہ سے دینا درست نہیں، اگر سابقہ سالوں میں اندازہ سے زکوٰۃ دے دی گئی ہے تو جتنی مقدار زکوٰۃ  کی دی ہے اس کا حساب کرکے دیکھا جائے کہ کتنی رقم کم نکالی گئی ہے،اگر زکوۃ کم نکالی گئی ہو تو باقی زکوۃ ادا کردی جائے تاکہ سابقہ پانچ سالوں کی مکمل زکوٰۃ ادا ہوجائے، اور اگر کسی وجہ سے مکمل طور پر حساب کرنا ممکن نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ کا اندازہ لگا کر زکوٰۃ دے دی جائے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(‌شك أنه أدى الزكاة أو لا يؤديها) لأن وقتها العمر أشباه.

(قوله: لأن وقتها العمر) قال في البحر عن الواقعات: فرق بين هذا وبين ما إذا ‌شك في الصلاة بعد ذهاب الوقت أصلاها أم لا؟ والفرق أن العمر كله وقت لأداء الزكاة فصار هذا بمنزلة ‌شك وقع في أداء الصلاة في وقتها، ولو كان كذلك يعيد اهـ.

قال في البحر: وقعت حادثة هي أن من ‌شك هل أدى جميع ما عليه من الزكاة أم لا بأن كان يؤدي متفرقا ولا يضبطه هل يلزمه إعادتها ومقتضى ما ذكرنا لزوم الإعادة حيث لم يغلب على ظنه دفع قدر معين؛ لأنه ثابت في ذمته بيقين فلا يخرج عن العهدة بالشك. اهـ.

قلت: وحاصله أنه يتحرى في مقدار المؤدى: كما لو ‌شك في عدد الركعات، فما غلب على ظنه أنه أداه سقط عنه وأدى الباقي، وإن لم يغلب على ظنه شيء أدى الكل، والله تعالى أعلم. "

(كتاب الزكاة، باب زكاة الغنم، 2/ 295، ط:سعيد)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144601102187
تاریخ01-08-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں