بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کا اپنے بیٹے کے لیے وصیت کرنے کا حکم

سوال

میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، والد صاحب کے ترکہ میں تقریبًا انیس لاکھ کی رقم تھی، اس سے متعلق والد مرحوم نے وصیت کی تھی کہ یہ ساری رقم میرے بیٹےکی ہے جو مدرسہ میں پڑھتا ہے، مرحوم کے ترکہ میں اس رقم کے علاوہ  بھی مال موجود ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ مرحوم والد کا اپنے بیٹے کےلیے وصیت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور یہ وصیت میں شمار ہوگا یا ترکہ میں؟

جواب

صورت مسئولہ میں والد مرحوم کی مذکورہ وصیت شرعاً معتبر نہیں ہے، لہذا مذکورہ  رقم بھی مرحوم کا ترکہ شمار ہوگی اور تمام ورثاء میں شرعی ضابطۂ میراث کے مطابق تقسیم کی جائے گی، البتہ اگر تمام  ورثاء عاقل بالغ ہوں اور وہ اس وصیت پر عمل کرنے کی اجازت دے دیں تو ان کی رضامندی کے بعد اس پر عمل کیا جاسکتا ہے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے: 

"(قال رحمه الله) قد بينا أن الوصية للوارث لا تجوز بدون إجازة الورثة لقوله عليه السلام: «لا وصية لوارث إلى أن يجيزه الورثة."

(كتاب الوصايا، باب الوصية للوارث والأجنبي والقاتل، ج: 27 ص: 175 ط: دار المورفة)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144601102015
تاریخ30-07-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں