بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں دینے کی نذر میں غریب کو دینا

سوال

عرض ہےکہ کسی ضرورت پڑنے  پر میں نے اللہ تعالی سے کہا تھا کہ میرا فلاں کام ہو جائے تو میں مسجد میں 500 روپیہ دوں گا۔ الحمد للہ کام ٹھیک اسی طرح ہو گیا ۔500 روپے کا میں ذمہ دار ہوگیا، اب مجھے ایک ایسی غریب خاتون مل گئی جس کے پاس پہننے کو کپڑے نہیں تھے ،تو میں نے ان کو کپڑے دے دیے۔ کیاکپڑے دینے سے جو مسجد میں دینے تھے وہ قرضہ اتر گیا؟ یا نہیں؟ 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جب سائل نے یہ نذر مانی تھی کہ فلاں کام ہوگیا تو مسجد میں 500 روپے دے گا، اور پھر وہ کام ہوگیا ہے تو اب مسجد میں ہی 500 روپے دینے لازم ہیں۔ غریب عورت کو کپڑے دینے سے نذر ادا نہیں ہوگی۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"أَمَّا أَصْلُ الْحُكْمِ فَالنَّاذِرُ لَايَخْلُو مِنْ أَنْ يَكُونَ نَذَرَ وَسَمَّى، أَوْ نَذَرَ وَلَمْ يُسَمِّ، فَإِنْ نَذَرَ وَسَمَّى فَحُكْمُهُ وُجُوبُ الْوَفَاءِ بِمَا سَمَّى، بِالْكِتَابِ الْعَزِيزِ وَالسُّنَّةِ وَالْإِجْمَاعِ وَالْمَعْقُولِ .

( أَمَّا ) الْكِتَابُ الْكَرِيمِ فَقَوْلُهُ - عَزَّ شَأْنُهُ - { وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ }.....

(كتاب النذر، فصل في حكم النذر، ج:6، ص:343/48، ط:دارالحديث، القاهرة)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144601102005
تاریخ30-07-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں