بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بیوی کی کمائی پر شوہر کو حق حاصل ہے؟

سوال

کیا عورت کی کمائی پر یا عورت کے مال میراث پر شوہر کا کوئی حق ہوتا ہے؟

جواب

واضح رہے  کہ عورت  کا نان نفقہ شادی سے پہلے باپ کے ذمہ لازم ہوتا ہے اور شادی کے بعد شوہر کے ذمہ لازم ہوتا ہے، اس لیے عورت کے لیے  بلاضرورت شدیدہ کے ملازمت کرنا  جائز نہیں ، تاہم  اگر  عورت  کسی بھی جائز طریقہ(ملازمت ،  میراث  یا مہر وغیرہ ) سے مال کی مالک بن جائے تو  وہ خود ہی اس کی مالک ہوگی، اس میں ہر قسم کا جائز تصرف کرسکتی ہے، کسی اور کو بشمول شوہر کے اس کے مال میں کسی قسم کے تصرف کا کوئی حق حاصل نہیں ہوگا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر عورت کے پاس  اپنی ذاتی کمائی ہے تو وہ  خود اس کی مالک ہے، شوہر کو اس پر کوئی  حق حاصل نہیں ہے، البتہ جب عورت کا انتقال ہوجائے تو  پھر شوہر اپنے شرعی حصہ کے  بقدر مالِ میراث میں  سے لینے کا حق دار  ہوگا۔ 

رد المحتار  میں ہے:

"‌لا ‌يجوز ‌لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."

(كتاب الحدود، باب التعزير، ج : 4، ص : 61، ط : سعید)

الدر المختار میں ہے:

"لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته."

(كتاب الغصب، ج : 6، ص : 200، ط : سعید)

فقط  واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144601101978
تاریخ29-07-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں