بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نومولود بچےکے بال حجام سے کٹوانے اور اس پر اجرت دینے کا حکم

سوال

اگر کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے، تو اس بچے کے بال منڈوانے کے لیے نائی آجاتے ہیں، تو نائی سے بال منڈوانا کیسا ہے؟ اور اس پر اجرت دینا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  نومولود بچےکےبال نائی سے  کٹوانا جائز ہے اور اس پر نائی کو بال کاٹنے کی اجرت دینا بھی جائز ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"والأجرة إنما تكون في مقابلة العمل. "

(کتاب النکاح، ج:1، ص:156، ط،ایچ، ایم، سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"قالوا الأجير المشترك من يستحق الأجر بالعمل لا بتسليم نفسه للعمل والأجير الخاص من يستحق الأجر بتسليم نفسه وبمضي المدة ولا يشترط العمل في حقه لاستحقاق الأجر."

(کتاب الإجارۃ،  الباب الثامن والعشرون في بيان حكم الأجير الخاص والمشترك،  ج:4، ص:500، ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144601101714
تاریخ27-07-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں