نومولود بچےکے بال حجام سے کٹوانے اور اس پر اجرت دینے کا حکم
سوال
اگر کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے، تو اس بچے کے بال منڈوانے کے لیے نائی آجاتے ہیں، تو نائی سے بال منڈوانا کیسا ہے؟ اور اس پر اجرت دینا کیسا ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں نومولود بچےکےبال نائی سے کٹوانا جائز ہے اور اس پر نائی کو بال کاٹنے کی اجرت دینا بھی جائز ہے ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"والأجرة إنما تكون في مقابلة العمل. "
(کتاب النکاح، ج:1، ص:156، ط،ایچ، ایم، سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"قالوا الأجير المشترك من يستحق الأجر بالعمل لا بتسليم نفسه للعمل والأجير الخاص من يستحق الأجر بتسليم نفسه وبمضي المدة ولا يشترط العمل في حقه لاستحقاق الأجر."
(کتاب الإجارۃ، الباب الثامن والعشرون في بيان حكم الأجير الخاص والمشترك، ج:4، ص:500، ط: دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

