بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں ورزش کرنا

سوال

کیا مسجد میں ورزش کر سکتے ہیں؟

جواب

مسجد اللہ کا گھر ہے جو عبادت کے لیے بنا ہے، اس  میں ورزش کرنا آدابِ  مسجد  کے  خلاف  ہے۔

فتح القدیر میں ہے:

"(وتكره المجامعة ‌فوق ‌المسجد والبول والتخلي) لأن سطح المسجد له حكم المسجد حتى يصح الاقتداء منه بمن تحته."

(‌‌كتاب الصلاة:ج:1،ص420، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی  میں ہے:

"(و) كره تحريما (الوطء فوقه، والبول والتغوط) لأنه مسجد إلى ‌عنان ‌السماء."

(‌‌كتاب الصلاة، لا بأس باتخاذ المسبحة لغير رياء: ج:1،ص:656،ط: سعید)

امداد الاحکام میں ہے :

"مسجد  میں ورزش خلافِ ادب ہے، لہذا زمانۂ اعتکاف میں اس کو ترک کردیں اگر تکلیف نہ ہو، اور اگر تکلیف زیادہ، ناقابلِ برداشت ہو تو بمجبوری خلوت کے وقت کرلیا کریں۔"

(کتاب الصوم، باب الاعتکاف،ج 2 / ص 150، ط: دار العلوم)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144601101663
تاریخ27-07-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں