بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تانبے پیتل اور چمڑے کے برتن استعمال کرنے کا حکم

سوال

تانبے پیتل اور چمڑے سے بنے ہوئے برتن میں پانی ڈال کر اس سے وضو کرنا کیسا ہے ؟

جواب

واضح ر ہے کہ سونے اور چاندی کے برتن کے علاوہ کسی بھی پا ک برتن کو استعمال میں لانا جائز ہے،  چاہے وضو کےلیے ہو یا دیگر ضروریا ت کےلیے ،صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ برتن کو وضو کے لیے استعمال کرنا جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما الآنية من غير الفضة والذهب فلا بأس بالأكل والشرب فيها، والانتفاع بها كالحديد والصفر والنحاس والرصاص والخشب والطين اهـ ".

(رد المحتار،ج:6 / ص: 343،ط: سعید)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

’’پیتل اور تانبے کے برتنوں کا استعمال درست ہے‘‘۔

( فتاوی محمودیہ ،ج:19 ،  ص:357،ط: ادارۃ الفاروق)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144601101632
تاریخ26-07-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں