بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ کے خود کشی کرنے پر مواخذہ نہیں ہے

سوال

نابالغ بچے کی خودکشی کی سزا بالغ جیسی ہے یا اس میں فرق ہے؟

جواب

نابالغ شرعی احکام کا مکلف نہیں ہوتا اور اس کے بلوغت  سے پہلے کیے گئے  گناہوں پر کوئی مواخذہ نہیں ہے، لہذا نابالغ  اگر  خود کشی کرلے تو مکلف نہ ہونے کی وجہ سے آخرت میں اس کی پکڑ نہیں ہوگی۔

سنن نسائی میں ہے:

"عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " ‌رفع ‌القلم عن ثلاث: عن النائم حتى يستيقظ، ‌وعن ‌الصغير حتى يكبر، وعن المجنون حتى يعقل أو يفيق."

(کتاب الطلاق، باب: من لا يقع طلاقه من الأزواج، ج:6، ص:156، ط:مكتب المطبوعات الاسلامية)

مبسوط سرخسی میں ہے:

"(قال) وإذا ارتد الغلام المراهق عن الإسلام لم يقتل،  ... لقوله صلى الله عليه وسلم: «‌رفع ‌القلم عن ثلاث عن الصبي حتى يحتلم»، ومن كان مرفوع القلم فلا ينبني الحكم في الدنيا على قوله، ولأنه غير مخاطب بالإسلام ما لم يبلغ فلا يحكم بصحة إسلامه كالذي لا يعقل إذا لقن فتكلم به." 

(كتاب السير، باب المرتدين، ج:10، ص:120، ط:دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144601101547
تاریخ25-07-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں