بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کے نام پر اس کی اجازت کے بغیر کاروبار کرنا

سوال

میرے سسر بین الاقوامی سطح پر منی لانڈرنگ کا کام کرتے ہیں،ان پر پاکستانی اوربین الاقوامی سطح پر پابندیاں ہیں،جس کی وجہ سے اب وہ اپنے اثاثے میری بیوی کے نام پر بنا رہے ہیں، جس میں میرا نام بھی استعمال ہوتا ہے،اور اسی طرح میری ایک تین سال کی بیٹی ہے اور ایک گیارہ سال کی ان کانام بھی وہ اپنے غیر قانونی کاروبار میں استعمال کر رہےہیں۔

کسی کے نام پر اس کی اجازت کے بغیر غیرقانونی کاروبار چلانا درست ہےیا نہیں ؟

اور اس میں حاصل شدہ آمدنی اور اثاثے رکھنا کیسا ہے؟

شریعت کی رو سے میں انہیں روک سکتا ہوں یا نہیں؟تاکہ میں اپنا اور اپنی بچیوں کا تحفظ کر سکوں۔

جواب

کسی کانام اس کی اجازت کے بغیر کسی بھی ایسی جگہ پر استعمال کرنا جس سے اس کی جان،مال یاآبروکو خطرہ ہو  ناجائز ہے۔

لہذا سائل کو اپنا اور بچیوں کا نام استعمال کر نے سے روکنے کا حق حاص ہے۔

سنن ابن ماجه میں ہے:

"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "كل المسلم على المسلم حرام، دمه وماله وعرضه."

(أول أبواب الفتن،باب حرمة دم المؤمن وماله،رقم الحدیث:3933،ص:826 ،ط:دار الصديق للنشر، الجبيل - السعودية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144601100973
تاریخ20-07-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں