بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، والدین، 3 بیٹے او دو بیٹیوں میں میراث کی تقسیم

سوال

ایک شخص کا انتقال ہوا،اس کے ورثاءمیں والدین دو بیوائیں ،پہلی بیوی سے ایک بیٹا دو بیٹیاں ہوئیں، دوسری سے دو لڑکے پیدا ہوئے ۔

سوال یہ ہے کہ ان مذکورہ ورثاء میں میراث کیسے تقسیم ہوگی؟

مرحوم نے ترکہ میں صرف ایک مکان چھوڑا ہے۔

نوٹ:پہلی بیوی کا انتقال مرحوم سے پہلے ہوا ہے۔

جواب

 مرحوم  کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے مرحوم کے   حقوقِ  متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرضہ ہو  تو کل ترکہ سے  قرضہ ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں سے وصیت کو نافذ کرکے  باقی کل  منقولہ و غیر منقولہ ترکہ  کو 192حصوں میں تقسیم کر کے اس میں سے 32 حصے مرحوم کے والد کو،32 حصے مرحوم کی والدہ کو،24  حصے   مرحوم کی زندہ بیوہ کو،  26 حصے  ہر  ایک بیٹے کو اور 13  حصے  ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔مرحوم کی جس بیوی کا مرحوم سے پہلے انتقال ہوچکا ہے اس کا مرحوم کی جائیداد میں شرعا حصہ نہیں ہوگا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:192/24

والد  والدہ بیوہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی  بیٹی
4 4 3 13
32 32 24 26 26 26 13 13

یعنی اگر کل ترکہ سو روپے ہو تو والد  کو 16.67 روپے،والدہ  کو 16.67 روپے،بیوہ کو 12.5  روپے،13.54 روپے  ہر ایک بیٹے کو ،6.77 ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

فقط وااللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144601100823
تاریخ18-07-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں