بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

محرم الحرام میں ہمبستری کرنا

سوال

کیا محرم الحرام میں میاں بیوی کو ہمبستری سے پرہیز کرنا چاہیے ؟کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سوگ کا مہینہ ہے اس لیے خوشی والے کاموں سے بچنا چاہیے۔

جواب

درج ذیل حالات میں میاں بیوی کے لیے ہم بستری کرنا شرعاً ممنوع ہے۔

1۔ روزہ کی حالت میں۔

2۔ احرام کی حالت میں۔

3۔ حاجی کے لیے طوافِ زیارت کرنے سے پہلے تک۔

4۔ ماہواری کے دنوں میں۔

5۔ نفاس (یعنی بچہ کی پیدائش کے بعد  جو خون آتا ہے) کے دنوں میں۔

ان حالات کے علاوہ بقیہ تمام دنوں میں ہم بستری جائز ہے؛ لہذا  محرم  الحرام میں  ہم بستری کی ممانعت کا عقیدہ رکھنا یا اسے جائز نہ سمجھنا  درست نہیں۔

واضح رہے کہ محرم کوئی تہوار نہیں ہے کہ اس میں خوشی منائی جائے اور نہ ہی اہل بدعت/ روافض کی طرح غم اورماتم کرنے کی اجازت ہے، اس ماہ میں جو واقعات پیش آئے ان سے سبق حاصل کرنا چاہیے، جن اعمال کا ثبوت ہے ان کو کرنا چاہیے اور جو خلافِ شرع امور ہیں ان سے بچنا لازم ہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144601100415
تاریخ11-07-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں