بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چائنا کی چیز کو ملائشیا کہہ کر فروخت کرنا

سوال

کیاچائنا کے مال  کو ملائیشیا  کا کہ کر فروخت کرسکتے ہیں ؟اگر نہیں توکن صورتوں میں جائز ہے؟

جواب

چائنا کے مال کو چائنا  کا کہہ کر ہی فروخت کیا جائے ،چائنا کے مال کو ملائشیا کا کہنا یا کسی اور ملک کا کہنا’’ جھوٹ ‘‘ہے اور جھوٹ بولنا یا لکھنا شرعًا ناجائز ہے ۔

مسند احمد میں ہے:

"حدثنا وكيع قال: سمعت الأعمش قال: حدثت عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب."

( مسند أبي أمامة،504/36، ط: مؤسسة الرسالة)

صحيح البخاري میں ہے:

" حدثنا سليمان أبو الربيع قال: حدثنا إسماعيل بن جعفر قال: حدثنا نافع بن مالك بن أبي عامر أبو سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:(‌آية ‌المنافق ‌ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان)".

(‌‌ باب: علامة المنافق،21/1،ط : دار ابن كثير)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144601100364
تاریخ11-07-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں