بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 جُمادى الأولى 1448ھ 31 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز کے دوران بیہوش ہونے سے نماز کا حکم

سوال

 جماعت کی نماز کے دوران یا پھر تنہا نماز میں کوئی نمازی قیام کی حالت میں یا کسی اور حالت میں اچانک بیہوش ہو کر گر پڑے اور چند لمحے بعد خود ہی واپس اپنے ہوش و حواس میں آجائے تو اس کے وضو اور نماز کے بارے میں کیا حکم ہوگا؟ آیا وضو ناقض  ہوگا اور نماز بھی فاسد ہوگی یا ٹوٹ جائے گا؟

جواب

واضح رہے کہ بے ہوشی کا طاری ہونا نواقض ِ وضو میں سے ہے ؛لہذا صورت ِ مسئولہ میں نمازی پر جب   نماز  کے دوران (چاہے جماعت کی نماز ہو یا انفرادی نماز ہو)  بے ہوشی   طاری ہوئی تو اس کی وجہ سے اس کا   وضو ٹوٹ گیا اور وضو ٹوٹنے کی وجہ سے نماز بھی فاسد ہوگئی ،اس نماز کا اعادہ کرنا لازم ہے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"(ومنها الإغماء والجنون والغشي والسكر) الإغماء ينقض الوضوء قليله وكثيره وكذا الجنون والغشي والسكر في هذا الباب أن لا يعرف الرجل من المرأة عند بعض المشايخ وهو اختيار الصدر الشهيد والصحيح ما نقل عن شمس الأئمة الحلواني أنه إذا دخل في بعض مشيته تحرك كذا في الذخيرة."

(کتاب الطہارۃ،الباب الاول فی الوضوء،الفصل الخامس فی نواقض الوضوء،ج:1،ص:12،المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144601100152
تاریخ09-07-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں