بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جُمادى الأولى 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا عرصہ دراز میکے میں رہنے سے نکاح ختم نہیں ہوتا ہے

سوال

اگر عورت ناراض ہو کر اپنے ماں باپ کے گھر رہتی ہو، شوہر نہ بسانے کی کوشش کرتا ہے اور نہ ہی  چھوڑتا ہے تو کیا ایسا کرنے سے نکاح باقی رہتا ہے یا نہیں ؟

جواب

میاں بیوی کا لمبے عرصے  جدا رہنےسے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ،البتہ میاں بیوی کا اس طرح علیحدہ رہنا ٹھیک نہیں ہے،اس میں ایک دوسرے کی حق تلفی ہوتی ہے او ریہ بہت بڑا گناہ ہے،اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ دونوں خاندانوں کے معزز اور سمجھ دار بزرگ افراد کے ذریعہ میاں بیوی کے باہمی اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے، اگر اختلاف کرنے کی کوئی صورت نہیں تو طلاق یا خلع لے کر اپنے آپ کو آزاد کر لے ورنہ عدالت کے ذریعہ شرعی طریقہ سے تنسیخِ نکاح کروا لے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"و في القھستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بین الزوجین اختلاف أن یجتمع أهلهما لیصلحوا بینهما، فإن لم یصطلحا جاز الطلاق و الخلع. و هذا هو الحکم المذکور في الآیة."

(باب الخلع ،ج:3،ص:441،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144512101583
تاریخ04-07-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں