بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کتنے دنوں بعد والدین سے ملنے جا سکتی ہے؟

سوال

کیا اسلام میں بیوی کا حق ہے کہ شوہر ہفتہ میں ایک دفعہ ماں کے گھر لے جائے؟  

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر بیوی ہر ہفتہ میں ایک مرتبہ والدین کی زیارت کے لیےجانا چاہتی ہےتو جاسکتی ہے،لیکن شوہر پر لےجانا لازم نہیں ہے،پھر ہر ہفتہ میں زیارت کرکےآنے کا حق ہے،ٹھہرنے کا حق نہیں ہے،وہ میاں بیوی کی رضامندی پر ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"و قيل: لايمنعها من الخروج إلى الوالدين في كل جمعة مرة، و عليه الفتوى، كذا في غاية السروجي."

(كتاب الطلاق،الباب السابع عشرفي النفقات،الفصل الثالث في النفقه المعتدة،557/1،ط:دار الفکر بیروت)

فتح باب العنایہ میں ہے:

"ولو كانت معه فلها نفقة الحضر لا السفر ولا الكراء۔۔۔(ولو كانت) حاجة (معه فلها نفقة الحضر) اتفاقا، بأن يعتبر قيمة الطعام فيه، (لا) نفقة (السفر) لأن زيادة القيمة في السفر يسقط بما حصل لها من المنفعة به (ولا الكراء) لأن المستحق هو النفقة وليس الكراء منها."

(کتاب الطلاق،فصل في النفقة والكسوة،194/2،ط:دار الأرقم بن أبي الأرقم بيروت)
فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144512101456
تاریخ03-07-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں