بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گدھی کے دودھ کی کریم کا حکم

سوال

‎ آج کل مارکیٹ میں ایک قسم کی کریم ملتی ہے جس پر لکھا ہوتا ہے گدھی کے دودھ کی  کریم، اگر گدھی کے دودھ کی  کوئی کریم ہو تو اس کا استعمال کیسا ہے؟

جواب

جس طرح گدھی کا دودھ حلال نہیں ہے، اسی طرح گدھی کے دودھ سے حاصل کی گئی کریم بھی حلال نہیں ہے،لہذا اس کو کھانے پینے کے استعمال میں لاناتو جائز نہیں، البتہ چونکہ گدھی کا دودھ ناپاک نہیں ہے، اس لیےاس کےدودھ سے بنائی گئی کریم کو بیرونی جسم پراستعمال کرنادرست اور جائز ہے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  میں ہے:

"(كره ‌لبن ‌الأتان) لأن اللبن يتولد من اللحم فصار مثله."

(كتاب الكراهية،فصل في الأكل،ج:8،ص:207،ط:دار إحياء التراث العربي، بيروت) 

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر میں ہے:

"(ولا يحل شرب ‌لبن ‌الأتان) بالفتح هي أنثى الحمر الأهلية لكون اللبن متولدا من لحم فيأخذ حكمه."

 (كتاب الكراهية،فصل في الأكل والشرب،ج:2ص: 526،ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاوى هندية میں ہے:

"والصحيح أن ‌لبن ‌الأتان طاهر. كذا في التبيين وهكذا في منية المصلي وهو الأصح، كذا في الهداية ولا يؤكل. كذا في النهاية والخلاصة."

(كتاب الطهارة،الباب السابع،الفصل الثاني،ج:1،ص: 46،ط:دار الفكر بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144512101378
تاریخ02-07-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں