بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کتابیں ڈیزائن کرتے ہوئے جاندار کی تصایر لگانا

سوال

1۔  میں کتابیں ڈیزائن کرتا ہوں جس میں اکثر اوقات جانداروں کی تصاویر لگانی پڑتی ہیں۔ آیا کہ یہ درست ہے یا نہیں؟

2۔ ہاتھ سے کسی انسان کی تصویر بنانا یعنی پینسل اسکیچ بنانا جائز ہے کیا؟میں نے حرام سمجھ کر یہ کام چھوڑ دیا ہے، لیکن کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ تصویر بنانا حرام ہے ،جس کی پوجا کی جائے، اس طرح کسی انسان کی تصویر بنانا حرام نہیں ہے، یا اجازت ہے اس طرح کی تصویر بنانے کی ؟

جواب

کتابیں ڈیزائن کرتے ہوئے جاندار ،ذی روح کی تصاویر لگانا،یا ہاتھ سےکسی انسانی صورت کا سکیچ بنانا خواہ پیسنل سےہی  ہو اور اس کی پوجا نہ کی جاتی ہو تب بھی ناجائز اور حرام ہے۔

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"أن تكون المنفعة المعقود عليها مباحة شرعا : كاستئجار كتاب للنظر والقراءة فيه والنقل منه، واستئجار دار للسكنى فيها، وشبكة للصيد ونحوها.

يتفرع على هذا الشرط أنه باتفاق الفقهاء: لا يجوز الاستئجار على المعاصي كاستئجار الإنسان للعب واللهو المحرم وتعليم السحر والشعر المحرم وانتساخ كتب البدع المحرمة، وكاستئجار المغنية والنائحة للغناء والنوح، لأنه استئجار على معصية، والمعصية لا تستحق بالعقد."

(الفصل الثالث عقد الایجار،ج5،ص3817،ط؛دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144512101285
تاریخ02-07-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں