بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبر پر پھول چڑھانے کا حکم

سوال

قبر پر پھول چڑھانا کیسا ہے؟

جواب

قبر وں پر پھول چڑھانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم،صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور ائمۂ مجتہدین سے ثابت نہیں ہے، اس لیے  قبر پر پھول چڑھانا درست نہیں ہے، بلکہ پھول کے بجائے یہ رقم صدقہ وخیرات کرکے میت کو ثواب پہنچادے، یہ زیادہ بہتر ہے، تاکہ میت کو بھی فائدہ ہو اور رقم بھی ضائع نہ ہو۔

فيض الباري على صحيح البخاري میں ہے:

"وقال العيني رحمه الله تعالى: ‌إن ‌إلقاء ‌الرياحين ‌ليس ‌بشيء."

(باب الجريد على القبر، ج:3، ص:72، دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتوی دیکھئے

قبروں پر پھول ڈالنے اور پانی چھڑکنے کا حکم

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144512100859
تاریخ26-06-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں