بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

13 ذی الحجہ کی رمی کا وقت کب ہے؟

سوال

(قوله جاز) أي صح عند الإمام استحسانا مع الكراهة التنزيهية   تیرہ ذوالحجہ کی رمی ز وال کے بعد ضروری ہے یا پہلے بھی کر سکتے ہیں ؟

جواب

13 ذی الحجہ کی رمی زوال سے  پہلے اور بعد میں دونوں وقتوں میں  کر ناجائزہے ،البتہ زوال سےپہلےرمی  کرنا مکروہ تنزیہی یعنی ناپسندیدہ ہےاور زوال کے  بعدرمی  کرنا اولی و بہتر  ہے  ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وإن قدم الرمي فيه) أي في اليوم الرابع (على الزوال جاز) فإن وقت الرمي فيه من الفجر للغروب."(الدر)...(قوله جاز) أي صح عند الإمام استحسانا مع الكراهة التنزيهية."

(کتاب الحج ، مطلب فی وقت الرمی فی الیوم الرابع ، ج : 2 ، ص : 521 ، ط : دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144512100763
تاریخ18-06-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں