بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفل روزے کی نیت کب تک جائز ہے؟

سوال

نفل روزوں  کی نیت کب تک جائز ہے؟

جواب

نصف نہار شرعی ( یعنی صبح صادق اور غروبِ آفتاب کا بالکل درمیانی وقت) سے پہلے تک نفل روزہ کی نیت کی جاسکتی ہے، بشرط یہ کہ صبح صادق  کے بعد روزہ کے منافی کوئی عمل نہ کیا ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

''(فيصح) أداء (صوم رمضان والنذر المعين والنفل بنية من الليل)، فلا تصح قبل الغروب ولا عنده (إلى الضحوة الكبرى، لا) بعدها، ولا (عندها)، اعتباراً لأكثر اليوم.''

 (كتاب الصوم، ج:2، ص: 377، ط: سعيد)

بہشتی زیور میں ہے:

’’مسئلہ : دو پہر سے ایک گھنٹہ پہلے تک نفل کی نیت کر لینا درست ہے، تو اگر دس بجے دن تک مثلاً روزہ رکھنے کا ارادہ نہ تھا ، لیکن ابھی تک کچھ کھایا پیا نہیں،  پھر جی میں آگیا اور روزہ رکھ لیا تو بھی درست ہے۔‘‘

(حصہ سوم، ص: 141، ط: آرام باغ کراچی)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144512100737
تاریخ16-06-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں