بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈ میں پیسے لگانے کا حکم

سوال

پرائز بانڈ میں پیسے لگانا صحیح ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  پرائز بانڈز جوئے اور سود کا مجموعہ ہے، لہٰذا پرائز بانڈ ز کی خریدوفروخت کرنا، اس میں پیسے لگانا اور اس سے ملنے والا انعام حاصل کرنا شریعت کی رو سے  ناجائز اور حرام ہے، اس سے اجتناب کیا جائے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (278)فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (279)"

ترجمہ:"اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو پھر اگر تم اس پر عمل نہ کرو گے تواشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے(یعنی تم پر جہاد ہوگا) اور اگر تم توبہ کر لو گے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر کوئی ظلم کرنے پائے گا۔"

(سورة البقرة، الآية:٢٧٨-٢٧٩)

قرآن مجید میں ایک دوسری آیت میں ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (90)"

"اے ایمان والو!  بلا شبہ شراب اور جوا، بت اور جوئے کے تیر یہ سب نجس ہیں شیطانی عمل میں سے ہیں سو ان چیزوں سے دور رہا کرو تا کہ تمہیں فلاح ملے۔"

(سورة المائدة، الآية:٩٠)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144512100732
تاریخ15-06-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں