بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام نے 8 ذو الحجہ سے تکبیرات تشریق کا کہہ دیا

سوال

اگر کوئی امام اعلان کرے عیدالاضحی سے دو دن پہلے فجر کی نماز میں کہ آج سے تکبیرات تشریق شروع ہوئی ہیں تو سائل کو کیا کرنا چاہیے؟

جواب

واضح ہو کہ تکبیراتِ تشریق عید الاضحی سے ایک دن قبل یعنی 9 ذی الحجہ کی فجر سے شروع ہوتی ہیں، لہذا اگر کسی مسجد کا امام عید الاضحی سے دو دن پہلے یعنی 8 ذی الحجہ سے تکبیراتِ تشریق کی ابتدا کر نےکا کہے تو اس پر عمل نہ کیا جائے، بلکہ امام صاحب سے مل کر  ادب کے ساتھ ان سے مسئلہ ذکر کر لیا جائے تاکہ ان سے تاریخ میں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہو تو وہ دور ہوجائے۔

عمدۃ القاری میں ہے :

"الثاني: في وقت التكبير فعند أصحابنا يبدأ بعد صلاة الفجر يوم عرفة ويختم عقيب العصر يوم النحر، عند أبي حنيفة، وهو قول عبد الله بن مسعود، رضي الله تعالى عنه، وعلقمة والأسود والنخعي"

(كتاب العيدين، ج6، ص293، دار إحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144512100684
تاریخ15-06-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں