بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عمرے میں سات سے کم چکر لگانے کا حکم

سوال

پہلے عمرے کا ایک چکر رہ گیا اور سعی کرلی اور ہوٹل چلا گیا،  حلق بھی کروا لیا اور حج کے ایام آ گئے تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں عمرہ کےطواف میں سات سےکم چکرلگانےکی وجہ سےایک دم یعنی بکری کاذبح کرنالازم ہوگا  اور یہ دم حدود حرم میں ادا کرنا ضروری ہے ،البتہ اگر سائل دوبارہ جاکر  اس طواف کا اعادہ کرلے تو اس صورت میں دم یعنی بکری کا ذبح کرنا ساقط ہوجائے گا۔

غنیۃ الناسک میں ہے:

"ولو طاف للعمرۃ کله، أو أکثر أو أقله ولو شوطا جنبا، أوحائضا، أو نفساء، أو محدث، فعلیه شاة، لا فرق فیه بین القلیل والکثیر، والجنب، والمحدث؛ لأنه لا مدخل في طواف العمرة للبدنة لا للصدقة بخلاف طواف الزیارة، وکذا لو ترك الأقل منه ولو شوطا لزمه دم ولو أعاده سقط عنه الدم".

( باب الجنایات، الفصل السابع: فی ترك الواجب فی أفعال الحج ، المطلب الرابع: فی ترك الواجب فی طواف العمرة، ص: 276، ط: ادارة القرآن)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الفتح: لو طاف للعمرة جنبا أو محدثا فعليه دم، وكذا لو ترك من طوافها شوطا لأنه لا مدخل للصدقة في العمرة".

( کتاب الحج، باب الجنایات في الحج، ج: 2، ص: 551 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144512100504
تاریخ12-06-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں