بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چوری کے جانور کی قربانی کا حکم

سوال

چوری کے جانور سے قربانی ہو سکتی ہے؟

جواب

 واضح رہے  کہ قربانی کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قربانی کا جانور قربانی کرنے والے کی ملکیت ہو ؛ لہذاصورتِ مسئولہ میں جانور خریدنے کے بعد معلوم ہوا کہ چوری کا ہے یا خود چوری کیاتھا، ان دونوں صورتوں میں قربانی جائز نہیں ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"والثاني ملك المحل؛ وهو أن يكون المضحى ملك من عليه الأضحية، فإن لم يكن لا تجوز لأن ‌التضحية ‌قربة ولا قربة في الذبح بملك الغير بغير إذنه، وعلى هذا يخرج ما إذا اغتصب شاة إنسان فضحى بها عن نفسه أنه لا تجزيه لعدم الملك."

(كتاب التضحية، فصل في محل إقامة الواجب في الأضحية، ج: 5،ص: 76، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144512100326
تاریخ10-06-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں