بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوسرے کی جگہ جا کر امتحان دینا

سوال

کسی اور کی جگہ میٹرک بورڈ جا کر اس کے سارے پرچے دینا اور ہرپرچہ کی اجرت لیناکیا صحیح ہے؟

جواب

کسی  دوسرے شخص کی جگہ امتحان دینا اور اس کے پرچے حل کرنا یہ خیانت ہے، اور شریعت میں خیانت کرنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے، اور کسی بھی ناجائز کام کی اجرت بھی ناجائز ہوتی ہے، لہٰذا دوسرے کی جگہ پرچہ حل کرکے اجرت (مزدوری) لینا بھی حرام ہے۔اوربغیراجرت کے بھی کسی دوسرے شخص کی جگہ امتحان دینابھی ناجائزہے۔

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"لا يجوز الاستئجار على المعاصي كاستئجار الإنسان للعب واللهو المحرم وتعليم السحر والشعر المحرم وانتساخ كتب البدع المحرمة، وكاستئجار المغنية والنائحة للغناء والنوح، لأنه استئجار على معصية، والمعصية لا تستحق بالعقد."

(القسم الثالث العقود، المبحث الثاني شروط الإجارة، ج:5، ص:3817، ط:دار الفكر)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144512100268
تاریخ10-06-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں