بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سنینہ نام رکھنا

سوال

ہم اپنی بیٹی کا نام سنینہ رکھ سکتے ہیں؟

جواب

’’سنینہ‘‘ ایک صحابیہ کا نام ہے، جن کا پورا نام  "سنینة بنت مخنف بن زيد النكريه"ہے، چنانچہ ’’سنینہ‘‘ نام رکھنا درست اور باعث برکت ہے،باقی لغت کے اعتبار سے اس کے مختلف معانی آتے ہیں،مثلاً:گرہ کھولنا،راستہ بنانا،بات واضح کرنا،کلام کو مہذب بنانا وغیرہ۔

تا ہم جب یہ صحابیہ رضی اللہ عنھا کا نام ہے،تو نام رکھنے میں اسی نسبت کا لحاظ رکھا جائے۔

تاج العروس میں ہے:

"‌وتُصَغَّرُ ‌السَّنَةُ ‌أَيْضاً على سُنَيْهَةٌ على أَنَّ الأَصْلَ سَنْهَةٌ، ويقالُ أَيْضاً سُنَيْنَةٌ، وَهُوَ قَليلٌ".

(فصل السِّين) مَعَ الْهَاء، ‌‌سنه، ج:جزء:36، ص:409، ط:وزارة الإرشاد والأنباء في الكويت)

لسان العرب میں ہے:

"‌وَيُقَالُ: ‌هَذِهِ ‌سِنٌّ، وَهِيَ مُؤَنَّثَةٌ، وَتَصْغِيرُهَا سُنَيْنة، وَتُجْمَعُ أُسُنّاً وأَسْناناً. وَقَالَ القَنَاني: يقال له بُنَيٌّ سَنِينَةُ ابْنِك".

(‌‌فصل السين المهملة، ج:13، ص:221، ط:دار صادر - بيروت)

جامع المسانيد والسنن لابن کثیر میں ہے:

"قال ابن منده: أخبرنا أحمد بن يعقوب النيسابوري ومحمد بن سعد الباوردي. قالا: حدثنا عبد الله بن العباس، حدثنا عبد الرحمن بن عمرو بن جبلة، حدثنا حبة بنت شماخ قالت: ‌حدثتني ‌سنينة بنت مخنف عن أبيها مخنف: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ((يامخنف، صل رحمك يطل عمرك وافعل الخير يكثر خير بيتك واذكر الله عند كل حجر ومدر يشهد لك يوم القيامة))".

(مخنف النكري، ج:7، ص:362، حدیث:9329، ط:دار خضر للطباعة والنشر والتوزيع بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144512100247
تاریخ10-06-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں