بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روبوٹ کی ذریعہ ڈیجیٹل کرنسی کی مائننگ کا حکم

سوال

 ٹیلیگرام میں روبوٹ ڈیزائن کیے گئے ہیں جن کے ذریعے ڈیجیٹل کرنسی نکالی جاتی ہے! اب سوال یہ ہے کہ ان روبوٹس کے ذریعے ڈیجیٹل کرنسی کی مائننگ اور ان کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟

جواب

ڈیجیٹل کرنسی کی مائننگ  اور ان کی خرید و فروخت نا جائز و حرام ہے چاہے انسان خود یہ کام کرے یا روبوٹ کے ذریعہ یہ کام کرے، کیونکہ ڈیجیٹل کرنسی یعنی "بٹ کوائن" "کرپٹوکرنسی" محض ایک فرضی کرنسی ہے، اس میں حقیقی کرنسی کے بنیادی اوصاف اور شرائط بالکل موجود نہیں ہیں،  لہذا موجودہ  زمانے میں ان کی خرید و فروخت  کے نام سے انٹرنیٹ پر اور الیکٹرونک مارکیٹ میں جو کاروبار چل رہا ہے وہ حلال اور جائز نہیں ہے، وہ محض دھوکا ہے، اس میں حقیقت میں کوئی مادی چیز نہیں ہوتی، اور اس میں قبضہ بھی نہیں ہوتا صرف اکاؤنٹ میں کچھ عدد آجاتے ہیں، اور یہ فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوے کی ایک شکل ہے، اس لیے " بٹ کوائن" یا کسی بھی " ڈیجیٹل کرنسی" کے نام نہاد کاروبار میں پیسے لگانا اور خرید و فروخت میں شامل ہونا جائز نہیں ہے۔

( ماخوذ: تجارت کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا: 2/ 92) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144512100194
تاریخ08-06-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں