بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی میں ایک حصہ اللہ تعالی کے نام پر کرنے کا حکم

سوال

کیا بڑے جانور میں سے ایک حصہ خالص اللہ تعالی کے نام کا رکھ سکتے ہیں۔مطلب چھ حصے موجودہ بندوں کے اور ساتواں حصہ اللہ تعالی کے نام کا ،کیا یہ جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرایک حصہ قربانی اللہ تعالی کے نام پر کرنے کا مقصد یہ  ہو کہ سارے شرکاء اس حصہ میں شریک ہوکر اللہ تعالی کے نام پرصدقہ کردیں،تو اس کی جائز صورت یہ ہے کہ  تمام شرکاء  ساتویں حصے میں اپنی اپنی رقم کا مالک  کسی ایک آدمی کو  بنادیں  اوروہ  اپنے قبضہ میں رقم لےکر ایک حصہ کی قربانی کردےتو   یہ صورت جائز ہوجاۓ گی اور  سارے شرکاء ثواب  کے حق دار ہوں  گے۔ 

اور سوال کا مقصد کچھ اور ہے تو وضاحت کے ساتھ سوال دوبارہ ارسال کردیجیے!

فتاوی شامی میں ہے:

"(فتجب) التضحية: أي إراقة الدم من النعم عملًا لا اعتقادًا ... (على حر مسلم مقيم) ... (موسر) يسار الفطرة (عن نفسه لا عن طفله) على الظاهر، بخلاف الفطرة (شاة) بالرفع بدل من ضمير تجب أو فاعله (أو سبع بدنة) هي الإبل و البقر؛ سميت به لضخامتها، و لو لأحدهم أقل من سبع لم يجز عن أحد، و تجزي عما دون سبعة بالأولى (فجر) نصب على الظرفية (يوم النحر إلى آخر أيامه)."

(کتاب الأضحیه، 313/315/316/6، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144512100170
تاریخ08-06-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں