بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چاند نکلنے سے پہلے قربانی کا جانور خریدنا جائز ہے؟

سوال

قربانی کاجانور کب خریدنا چاہیے؟ بعض لوگ  کہتے ہیں کہ چاند نکلنے کے بعد قربانی کا جانور خریدنا چاہیے،کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

قربانی کا جانور  عید سے جس قدر پہلے ہوسکےخرید سکتا ہے خریدنااور اس کو عید تک پالنا بہتر ہے، تا کہ جانور سے انس و محبت پیدا ہو جائے،اور محبوب جانور کو ذبح کرنے سے  اس کو زیادہ ثواب  ملے،اس کے لیے کوئی وقت متعین نہیں ہے،ہر آدمی اپنی وسعت کے مطابق جب بھی خریدنا چاہے خرید سکتا ہے،لہذا یہ کہنا کہ " چاند نکلنے کے بعد قربانی کا جانور  خریدنا چاہئے  "اگر اس سے یہ مقصد ہو کہ پہلے خریدنا نہیں چاہئے،تو یہ بات درست نہیں۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"أما الذي هو قبل التضحية ‌فيستحب ‌أن ‌يربط الأضحية قبل أيام النحر بأيام لما فيه من الاستعداد للقربة وإظهار الرغبة فيها فيكون له فيه أجر وثواب".

(كتاب التضحية، فصل في بيان ما يستحب قبل التضحية وبعدها وما يكره، ج:5، ص:78، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144512100132
تاریخ08-06-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں