بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

راحم نام رکھنا

سوال

لڑکے کا نام "راحم" رکھا جاسکتا ہے؟ اس کا معنی کیا ہے؟

اس کے شروع میں اللہ کے ناموں میں سے  یا آپ ﷺ کا نام استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب

"راحم"  کے معنی مہربان، رحم کرنے والے کے آتے ہیں، اس معنی کے اعتبار سے "راحم" نام رکھنا درست ہے۔ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے کسی نام پر اگر بچے کا نام رکھا جائے تو اس سے پہلے "عبد" (بمعنی بندہ) لگایا جاتا ہے، مثلا "الرحمٰن" اللہ تعالیٰ کا صفتی نام ہے، کسی بھی نام سے پہلے "محمد"  لگانا  باعثِ خیر و برکت ہے۔ البتہ شروع میں "محمد" لگا لیں تو زیادہ بہتر ہے۔

تاج العروس میں ہے:

"والرحيم قد يكون بمعنى المرحوم كما يكون بمعنى الراحم، قال عملس ابن عقيل:(فأما إذا عضت بك الحرب عضة ... فإنك معطوف عليك رحيم)."

(ر ح م، ج:32، ص:234، ط:دار الهداية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144512100109
تاریخ08-06-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں